Urdu Journal 15 (2024)

 میر تقی میرؔ کو آپ خدائے سخن مانیں یا نہ مانیں، اس کے سر پیغمبرانہ سخنوری کا تاج سجائیں یا نہ سجائیں، اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میر کی شاعری ایک ایسی کائنات ہے جس میں جذبات، احساسات، غم اور خوشی کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی غزلوں نے محبت کی لطافت، درد کی شدت، اور زندگی کی گہرائیوں کو بڑے دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد میر کی شاعری دو صدی گزرنے کے بعد آج بھی اتنی ہی پرکشش اور جاذب قلب و نظر ہے ۔ ’’نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب‘‘، ’’کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا‘‘اور ’’کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے‘‘ کے ذریعہ ذوقؔ، غالبؔ سے لیکر عہد حاضر کے کلیمؔ تک نے میر کے انداز اور سخنوری کے سامنے اپنی جبین عقیدت خم کی ہے۔  میرؔ اردو شاعری کے ایسے لعل ہیں جن کی شعریات کی تفہیم و تعبیر ہر دور کے ناقدین نے کی ہے۔ عہد تذکرہ سے لیکر جدید تنقید نگاری تک سبھی ناقدین نے میرؔ کی شاعری کے مختلف جہات کو روشن کیا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ میرؔ کی کائنات میں نئے جہانِ معانی کی تلاش و دریافت کی ہے۔ میرؔ کو گزرے دو سو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا، لیکن ان کے کلام کی آفاقیت و ہمہ گیری آج بھی ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا علمی ، ادبی و تحقیقی ترجمان ’’اردو جرنل ۱۵‘‘ کا حالیہ شمارہ بھی میرؔ تقی میر کی استادی کو عقیدت مندانہ خراج ہے۔ یہ مجلہ اردو کے معروف ناقد و دانشور اور فکشن تنقید کے حوالے سے استنادو مراجعت کا درجہ رکھنے والے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کی ادارت میں تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اس مجلے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ یو جی سی کے کیئر لسٹ میں شامل ہے، جو اس کے تحقیقی شان کی علامت ہے۔ آج کے کتب بیزار معاشرے ،لذت ورق گردانی سےناآشنا سماج اور ان لوگوں کے درمیان جن کی انگلیاں صفحۂ قرطاس کے بجائے موبائل کی اسکرینوں پر زیادہ دوڑتی ہیں ، کسی رسالے کا تسلسل کے ساتھ شائع ہونا اور ساتھ ہی ساتھ ادبی معیار اور مندرجاتی انفرادیت کو بھی برقرار رکھنا کار فرہاد سے کم نہیں۔ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے سالانہ اکیڈمک ریسرچ جرنل ’’اردو جرنل‘‘ کا شمار بھی انہی رسائل میں ہوتا ہے۔ ۲۰۱۰ء سے پابندی کے ساتھ یہ رسالہ شائع ہورہا ہے۔ اس رسالے کی انفرادیت یوں بھی ہے کہ اس کا ہر شمارہ کسی نہ کسی خاص موضوع یا شخصیت پر مشتمل رہا ہے۔ ماضی میں ’’تحقیق وتنقید‘‘، ’’ہم عصر اردو افسانہ‘‘، ’’ہم عصر اردو ناول‘‘ ،’’ہم عصر اردو شاعری‘‘ اور ’’اردو زبان وادب کے فروغ میں پٹنہ یونیورسٹی کی خدمات‘‘ پر نمبر بھی شائع ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ بعض دیگر شمارے میں فیض احمد فیض، سہیل عظیم آبادی، اسرار الحق مجاز، سعادت حسن منٹو وغیرہ پر خصوصے گوشے بھی شامل رہے ہیں۔ 

اردو جنرل ۱۵ کا حالیہ شمارہ میر تقی میرؔ کی کل کائنات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ 

شاھد وصی 



آپ اسے یہاں سے ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں 



1 comment: